پلاسٹک کا بڑ

0
236
plastic waste karachi

موجودہ دور میں پلاسٹک کی پیدوار اور استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور گذشتہ کئی برس سے اس کے استعمال سے ہونے والے ناقابل تلافی نقصانات کے بارے میں تحقیقات منظر عام پر آچکی ہیں مگر اب عملی طور پر بھی اس سے ہونے والے نقصانات نظر آرہے ہیں ایک تحقیق کے مطابق پلاسٹک کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے 50 کی دہائی میں یہ پیداوار دو ملین ٹن تھی جو 15-2014 میں 380 ملین تک جاپہنچی اور ایک اندازے کے مطابق 2050 تک 33 بلین ٹن سے بھی تجاوز کر جائیگے اگرچہ 1988 میں امریکہ سے اس کے خلاف جنگ کا آغاز ہوچکا تھا پہلی صورت میں یہ سمندروں میں پھینکنا ممنوع قرار دیا گیا۔

پلاسٹک کے کپ اور برتن ایسا میٹیریل ہے جو قدرتی طور پر ختم ہونے میں تقریباََ50 سے 80تک کا وقت لیتاہے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سمندر میں موجود مچھلیاں اور دیگر سمندری جانور اس کو کو غذا سمجھ کے کھا لیتے ہیں جو بعد میں انکے ہلاکت کا باعث بن جاتاہے پوری دنیا کا نصف پلاسٹک  ایشیا میں پیدا ہوتاہے چین اور انڈونیشا میں سب  سے ذیادہ پلاسٹک استعمال کیا جاتاہے۔ پہلے نمبر پر  عمارتوں اور تعمیاراتی سرگرمیوں میں پلاسٹک کا اسعمال بہت ذیادہ ہے اور تیسرا نمبر ٹیکسٹائل کا ہے  اس کا واحد حل استعمال کے بعد پلاسٹک کوریسائیکل کرنا اور توانائی میں تبدیل کرنا ہے

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں